Skip to main content

گردوں میں پتھری، اسباب اور علاج

گردوں کا مرکزی فعل خون کو غیر ضروری اجزا سے پاک اور اضافی مائع کو الگ کرنا ہے جو بعد میں جسم سے خارج ہوجاتا ہے۔ گردوں میں پتھری اس وقت بنتی ہے جب گردوں ہی میں موجود مائع دیگر اجزاء کی تحلیل کے لیے ناکافی ہو۔

انسانی گردوں میں انتہائی باریک اور طویل نالیاں ہوتی ہیں جنہیں نیفرونز کہا جاتا ہے۔ خون گردوں میں پہنچتا ہے تو گردے اس میں عمل سے غیرضروری نمکیات اور لحمیاتی نائٹروجن کو الگ کر تے ہیں۔ مگر اس عمل کے لئے گردوں کو ضروری مقدار میں پانی نہ ملے یا خوراک میں ان غیر ضروری نمکیات کی مقدار زیادہ ہو تو نمکیات ان نالیوں میں اکٹھا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ خون کی صفائی کے دوران وہ فاضل مادے جو گردے خون سے الگ کرتے ہیں مثانے میں جمع ہو جاتے ہیں کم پانی پینے کی صورت میں یہ انتہائی باریک لحمیاتی اجزاء اور نمکیات جمع ہوتے ہوتے سخت پتھری کی صورت اختیار کر لتےہیں۔
 گردوں کی پتھری نکالنے کیلئے سرجری اور لتھوٹرپسی کی مدد لی جاتی ہے جو کہ تکلیف دہ اور مہنگا طریقہ علاج ہے۔ آپریشن کی صورت میں جسم پر ہمیشہ کیلئے زخم کے نشان رہ جاتے ہیں جو بدنما اور بعض اوقات تکلیف دہ بھی ہو سکتے ہیں۔ لتھوٹرپسی بذات خود ایک تکلیف دہ عمل ہے جس میں صوتی لہروں کے ذریعے پتھری کو توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہر دو صورتوں میں پتھری کے دوبارہ ہونے کا اندیشہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

کیا ایسا کوئی طریقہ علاج ہے جو تکلیف، وقت، پیسہ اور دوبارہ بننے سے نجات دے؟

جی ہاں۔ ھومیو پیتھی ایسا طریقہ علاج ہے جو نہ صرف گردوں کی پتھری کو چھوٹے ٹکڑوں کی صورت میں جسم سے خارج کرتا ہے بلکہ ان کے دوبارہ بننے کے عمل کو بھی قدرتی طور پر روکتا ہے۔ ایسے میں نہ صرف مریض درد، تکلیف، ذہنی اذیت سے نجات حاصل کرتا ہے بلکہ وقت اور پیسہ کے زیاں سے بھی بچ جاتا ہے۔

کیا ھومیو پیتھی نقسان دہ ہے؟

ہرگز نہیں۔ ھومیوپیتھی ایک قدرتی طریقہ علاج ہے جس میں ادویات کے سائیڈایفیکٹ کا احتمال نہ ہونے کے برابر ہے۔

مفت مشورہ کیلئے ابھی رابطہ کریں
0349 4945 837

Comments

Popular posts from this blog

وہ نشانیاں جو گردوں کے امراض کی جانب اشارہ کریں

پاکستان میں لاکھوں افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا جبکہ مریضوں کی تعداد میں سالانہ 15 سے 20 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ گردے انسانی جسم کا اہم عضو ہیں، دنیا میں ہر سال پچاس ہزار سے زائد افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ گردہ عطیہ کرنے والوں کی کمی ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے مستند اعدادوشمار تو دستیاب نہیں مگر ایک اندازے کے مطابق لاکھوں افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں جبکہ ایسے مریضوں کی تعداد میں سالانہ 15 سے 20 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر افراد گردے کے امراض کو نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن یہ ایک ایسی بیماری ہے جو جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق گردوں کے امراض سے بچنے کے لیے پانی کا زائد استعمال، سگریٹ نوشی اور موٹاپے سے بچنا ضروری ہے۔ اگر درج ذیل نشانیاں سامنے آئے تو ڈاکٹر سے ضرور رجوع کیا جانا چاہیے۔ سانس گھٹنا یا لینے میں مشکل گردوں کے امراض اور سانس گھٹنے کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے، خصوصاً تھوڑی سی جسمانی سرگرمی کے بعد یہ مسئلہ لاحق ہوجاتا ہے۔ اس کی دو وجوہات ہوتی...
Quote of the day.