گردوں کا مرکزی فعل خون کو غیر ضروری اجزا سے پاک اور اضافی مائع کو الگ کرنا ہے جو بعد میں جسم سے خارج ہوجاتا ہے۔ گردوں میں پتھری اس وقت بنتی ہے جب گردوں ہی میں موجود مائع دیگر اجزاء کی تحلیل کے لیے ناکافی ہو۔ انسانی گردوں میں انتہائی باریک اور طویل نالیاں ہوتی ہیں جنہیں نیفرونز کہا جاتا ہے۔ خون گردوں میں پہنچتا ہے تو گردے اس میں عمل سے غیرضروری نمکیات اور لحمیاتی نائٹروجن کو الگ کر تے ہیں۔ مگر اس عمل کے لئے گردوں کو ضروری مقدار میں پانی نہ ملے یا خوراک میں ان غیر ضروری نمکیات کی مقدار زیادہ ہو تو نمکیات ان نالیوں میں اکٹھا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ خون کی صفائی کے دوران وہ فاضل مادے جو گردے خون سے الگ کرتے ہیں مثانے میں جمع ہو جاتے ہیں کم پانی پینے کی صورت میں یہ انتہائی باریک لحمیاتی اجزاء اور نمکیات جمع ہوتے ہوتے سخت پتھری کی صورت اختیار کر لتےہیں۔ گردوں کی پتھری نکالنے کیلئے سرجری اور لتھوٹرپسی کی مدد لی جاتی ہے جو کہ تکلیف دہ اور مہنگا طریقہ علاج ہے۔ آپریشن کی صورت میں جسم پر ہمیشہ کیلئے زخم کے نشان رہ جاتے ہیں جو بدنما اور بعض اوقات تکلیف دہ بھی ہو سکتے...

Comments
Post a Comment